طوفانِ غم شدید تھا دِل ننھا سا دِیاطوفانِ غم شدید تھا ، دِل ننھا سا دِیاجو کرنا تھا ہواؤں نے ، دِل کھول کر کیابنجر ترین ذات پہ ، کچھ ترس آ گیااُس نے مرے وُجود کو ، اَشکوں سے بھر دیامحشر سے بھی طویل تھی ، شامِ فِراق دوست!گویا تمہارا نام قیامت تلک لیاجس شخص کے ، میں نام سے لا علم تھا اَبھیگھر میں بٹھا لیا اُسے ، یہ دِل نے کیا کیازَخموں کا اَندمال ہیں ، دیپک نگاہ کےشبنم پرو کے پلکوں میں ہر بار دِل سیااَب صُورِ حشر پھونک دے ، مورَت میں قلب کیمنصور بن کے بیٹھے ہیں ، ہم کُن سے ساقیانفرت کے لفظ اِتنے ہَوا میں اُڑا دِئیےسانسوں میں زَہر بھر گیا ، بچوں نے بھی پیاسارے گناہ گار ، مخالف فریق ہیںقلعے میں اَپنے پھرتے ہیں ہر سمت اولیااِک حُسنِ پارسی جو مسیحائے لمس تھاماتھے پہ ہونٹ رَکھ کے ، سکھاتا تھا کیمیامجنوں تو جانے کتنے ہی گمنام مر گئےبرکت ہے اِسمِ لیلیٰ کی قیس آج تک جیا
No comments