یاد آتا ہے روز و شب کوئییاد آتا ہے روز و شب کوئیہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئیلبِ جو چھاؤں میں درختوں کیوہ ملاقات تھی عجب کوئیجب تجھے پہلی بار دیکھا تھاوہ بھی تھا موسمِ طرب کوئیکچھ خبر لے کہ تیری محفل سےدور بیٹھا ہے جاں بلب کوئینہ غمِ زندگی نہ دردِ فراقدل میں یوں ہی سی ہے طلب کوئییاد آتی ہیں دور کی باتیںپیار سے دیکھتا ہے جب کوئیچوٹ کھا ئی ہے بارہا لیکنآج تو درد ہے عجب کوئیجن کوئی مِٹنا تھا مِٹ چکے ناصران کو رسوا کرے نہ اب کوئی
No comments