یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہےلباس ہے پھٹا ہوا، غُبار میں اٹا ہواتمام جسمِ نازنیں، چھدا ہوا کٹا ہوایہ کون ذی وقار ہے، بلا کا شہ سوار ہےکہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوایہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہےیہ کون حق پرست ہے، مئے رضائے مست ہےکہ جس کے سامنے کوئی بلند ہے نہ پست ہےاُدھر ہزار گھات ہے، مگر عجیب بات ہےکہ ایک سے ہزار کا بھی حوصلہ شکست ہےیہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہےیہ جسکی ایک ضرب سے، کمالِ فنّ ِ حرب سےکئی شقی گرئے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سےغضب ہے تیغِ دوسرا کہ ایک ایک وار پراُٹھی صدائے الاماں زبانِ شرق وغرب سےیہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہےعبا بھی تار تار ہے، تو جسم بھی فگار ہےزمین بھی تپی ہوئی فلک بھی شعلہ بار ہےمگر یہ مردِ تیغ زن، یہ صف شکن فلک فگنکمالِ صبر و تن دہی سے محوِ کارزار ہےیہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہےدلاوری میں فرد ہے، بڑا ہی شیر مرد ہےکہ جس کے دبدبے سے رنگ دشمنوں کا زرد ہےحبیبِ مُصطفیٰ ہے یہ، مجاہدِ خدا ہے یہجبھی تو اس کے سامنے، یہ فوج گرد گرد ہےیہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہےاُدھر سپاہِ شام ہے، ہزار انتظام ہےاُدھر ہیں دشمنانِ دیں، اِدھر فقط اِمام ہےمگر عجیب شان ہے غضب کی آن بان ہےکہ جس طرف اُٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہےیہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
No comments