ادا ہر اک دلیلِ بے مثالی ہےPoet: صفدر By: رانا علی, Lahoreادا ہر اک دلیلِ بے مثالی ہےوہ کتنا شوخ سا اورلا اُبالی ہےتری چنچل نگاہِ شوق نے اکثرمرے دل میں جگہ ہردم بنالی ہےگُھلا ہے رنگ جوگُلشن کے پھولوں میںمرے محبوب کے چہرے کی لالی ہےچمن مہکے، کلی چٹکے،صبا بہکےوصالِ یار کی ساعت نرالی ہےغموں سے زندگی کے ڈر رہے ہوتمارے اٹھو بڑھو، اللہ والی ہےشہر میں ہرطرف ہے خوف کا عالَمعدو نے امن کی دولت چرالی ہےہے رقصاں بنتِ حوّا برسرِ محفلیہ کیسی بدنُما روشن خیالی ہےجہاں سے مانگ کر بھی کیاملا ہمکوہمارے خُم کودیکھو پھربھی خالی ہےبتا دے کوئی آکر مجھکو یہ صفدرغموں سے کس طرح دل کی بحالی ہے
No comments