بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئےبارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئےموسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئےبادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میںکیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئےجگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریںبچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئےلہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاسسورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئےبستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سبدریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئےسورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میںزلف شب فراق کے پیچاک ہو گئےجب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئیلہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے
No comments